اپنی چھت اپنا گھر
پاکستان میں ہر شہری کے لیے ایک محفوظ اور باوقار رہائش کا حصول ایک بنیادی حق اور دیرینہ خواب ہے۔ تاہم، بڑھتی ہوئی آبادی، مہنگائی، اور محدود مالی وسائل کے باعث کم آمدنی والے طبقے کے لیے اپنا گھر بنانا ایک بہت بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ اسی سنگین مسئلے سے نمٹنے اور معاشرے کے محروم طبقات کو بااختیار بنانے کے لیے حکومتِ پاکستان، خصوصاً پنجاب حکومت، نے “اپنی چھت اپنا گھر” جیسے انقلابی پروگرام کا آغاز کیا ہے۔ یہ پروگرام نہ صرف بلاسود قرضوں کی فراہمی پر مرکوز ہے بلکہ کم لاگت پر نئے مکانات کی تعمیر کو بھی یقینی بنا رہا ہے۔
پروگرام کا پس منظر اور ارتقاء
“اپنی چھت اپنا گھر” کوئی نیا تصور نہیں بلکہ پاکستان میں ہاؤسنگ سیکٹر کی ترقی اور غربت کے خاتمے کی حکومتی کوششوں کا تسلسل ہے۔ ماضی میں بھی مختلف حکومتوں نے ہاؤسنگ سکیمیں متعارف کروائیں، جن میں “نیا پاکستان ہاؤسنگ پروگرام” اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی “میرا پاکستان میرا گھر” سکیم قابل ذکر ہیں۔ تاہم، “اپنی چھت اپنا گھر” پروگرام موجودہ حکومتی وژن کے ساتھ ایک نیا اور زیادہ مربوط نقطہ نظر پیش کرتا ہے، جس میں بلاسود مالیات اور براہ راست حکومتی شمولیت پر زور دیا گیا ہے۔ اس کا مقصد صرف مکانات کی فراہمی نہیں بلکہ ایک ایسی طرز زندگی فراہم کرنا ہے جہاں خاندان وقار اور استحکام کے ساتھ رہ سکیں۔
پروگرام کے کلیدی ستون اور مقاصد
“اپنی چھت اپنا گھر” پروگرام درج ذیل اہم ستونوں پر کھڑا ہے
- بلاسود مالیاتی حل
- پروگرام کا سب سے امتیازی پہلو یہ ہے کہ یہ شریعت کے مطابق بلاسود قرضے فراہم کرتا ہے۔ یہ ان لاکھوں افراد کے لیے ایک نعمت ہے جو سود پر مبنی قرضوں سے اجتناب کرتے ہیں یا انہیں مالی بوجھ سمجھتے ہیں۔
- اس کے ذریعے مستحقین مالی دباؤ کے بغیر اپنی قسطیں ادا کر سکتے ہیں، جس سے ڈیفالٹ کے امکانات کم ہوتے ہیں اور منصوبے کی پائیداری بڑھتی ہے۔
- کم لاگت اور معیاری تعمیرات
- مکانات کو سستی قیمت پر تیار کیا جاتا ہے تاکہ کم آمدنی والے افراد انہیں بآسانی خرید سکیں۔
- تعمیراتی معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاتا تاکہ یہ گھر پائیدار اور رہائش کے لیے محفوظ ہوں۔
- مالیاتی استحکام اور معاشی ترقی:
- مکانات کی ملکیت خاندانوں میں مالی استحکام لاتی ہے اور انہیں مزید سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کرتی ہے۔
- تعمیراتی سرگرمیوں میں اضافے سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوتے ہیں، خاص طور پر تعمیراتی مزدوروں اور متعلقہ صنعتوں میں۔
- کچی آبادیوں کا خاتمہ اور بہتر معیار زندگی
- شہری کچی آبادیوں میں رہنے والے خاندانوں کو معیاری رہائش فراہم کر کے ان کے معیار زندگی کو بہتر بنایا جاتا ہے۔
- نئے گھر پینے کے صاف پانی، بجلی اور صفائی جیسی بنیادی سہولیات سے آراستہ ہوتے ہیں۔
2025 میں اہم پیش رفت اور تازہ ترین صورتحال (خصوصاً پنجاب میں)
جولائی 2025 کے آغاز تک، “اپنی چھت اپنا گھر” پروگرام نے پنجاب میں نمایاں پیش رفت کی ہے
- بڑی گرانٹ کا اجراء: پنجاب حکومت نے مالی سال 2025-26 کے لیے اس پروگرام کے لیے 42 ارب روپے سے زائد کی بڑی گرانٹ مختص کی ہے، جو صوبے کی تاریخ میں بلاسود ہاؤسنگ سپورٹ کے لیے کی جانے والی سب سے بڑی سرمایہ کاری ہے۔
- بینک آف پنجاب کے ساتھ معاہدہ: 20 جولائی 2025 کو پنجاب ہاؤسنگ ڈیپارٹمنٹ اور بینک آف پنجاب (BOP) کے درمیان ایک اہم معاہدہ طے پایا ہے۔ اس معاہدے کے تحت بینک آف پنجاب خصوصی طور پر اس اسکیم کے تحت گھروں کی تعمیر کے لیے بلاسود قرضے فراہم کرے گا۔
- کامیابی کے اعداد و شمار: پنجاب کے سیکرٹری ہاؤسنگ نور الامین مینگل کے مطابق، اب تک 51,000 سے زائد خاندان اس پروگرام سے مستفید ہو چکے ہیں۔ جن میں 6,160 گھروں کی تعمیر مکمل ہو چکی ہے اور 45,163 گھروں کی تعمیر جاری ہے۔
- مالیاتی تقسیم اور وصولی: اس منصوبے پر اب تک 60 ارب 50 کروڑ روپے سے زائد کی رقم تقسیم کی جا چکی ہے۔ ماہانہ اقساط کی مد میں 90 کروڑ روپے جمع بھی ہو چکے ہیں، اور آئندہ ماہ تک مزید 10 ارب روپے درخواست گزاروں میں تقسیم کیے جائیں گے۔
- آسان اقساط: یہ مکانات تقریباً 1.5 ملین روپے کی لاگت سے تعمیر ہو رہے ہیں، جس میں حکومت 60% لاگت خود برداشت کرتی ہے اور مستحقین کو صرف 40% (تقریباً 6 لاکھ روپے) ادا کرنے ہوتے ہیں۔ یہ رقم 7 سال کی آسان ماہانہ اقساط میں ادا کی جا سکتی ہے، جو تقریباً 14,000 روپے ماہانہ بنتی ہے۔
- مفت پلاٹ: اس سے منسلک ایک اسکیم “اپنی زمین اپنا گھر” کے تحت 19 اضلاع میں بے گھر خاندانوں کو 1,892 مفت 3 مرلہ پلاٹ بھی فراہم کیے جا رہے ہیں۔
- وسیع رسائی: یہ پروگرام لاہور، ملتان، فیصل آباد، سیالکوٹ، سرگودھا، اور راولپنڈی جیسے بڑے شہروں میں کامیابی سے جاری ہے اور اسے پنجاب کے تمام 36 اضلاع تک پھیلانے کا منصوبہ ہے۔
اہلیت کا معیار اور درخواست کا طریقہ کار
“اپنی چھت اپنا گھر” پروگرام سے فائدہ اٹھانے کے لیے مخصوص اہلیت کی شرائط مقرر کی گئی ہیں تاکہ صرف مستحق افراد ہی اس سے مستفید ہو سکیں:
اہلیت کے معیارات (عمومی شرائط)
- رہائش: درخواست دہندہ پنجاب کا مستقل رہائشی ہونا چاہیے۔
- پلاٹ کی ملکیت: درخواست دہندہ کے پاس اپنا پلاٹ ہونا چاہیے (شہری علاقوں میں 5 مرلے تک اور دیہی علاقوں میں 10 مرلے تک)۔ اگر زمین نہیں ہے تو “اپنی زمین اپنا گھر” اسکیم کے تحت پلاٹ فراہم کیے جا سکتے ہیں۔
- آمدنی: خاندان کی ماہانہ آمدنی ایک مقررہ حد سے کم ہونی چاہیے (عام طور پر 50,000 روپے سے کم، تاہم تازہ ترین حد پروگرام کی آفیشل ویب سائٹ پر چیک کی جا سکتی ہے)۔
- رہائشی ملکیت: درخواست دہندہ یا اس کے خاندان کے کسی فرد کے نام پر پاکستان میں کوئی اور رہائشی جائیداد نہیں ہونی چاہیے۔
- دیگر: درخواست دہندہ کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ یا قرض کے ڈیفالٹ کی تاریخ نہیں ہونی چاہیے۔
درخواست دینے کا طریقہ کار
- آن لائن درخواست: شہری پروگرام کی آفیشل ویب سائٹ acag.punjab.gov.pk پر جا کر آن لائن درخواست دے سکتے ہیں۔ یہ سب سے آسان اور تیز ترین طریقہ ہے۔
- پنجاب سوشل اکنامک رجسٹری سروے: اہلیت کی حتمی تصدیق کے لیے پنجاب سوشل اکنامک رجسٹری سروے مکمل کرنا ہوگا۔ یہ سروے غربت کا سکور طے کرتا ہے۔
- ضروری دستاویزات: درخواست کے ساتھ قومی شناختی کارڈ ، پلاٹ کی ملکیت کا ثبوت، اور پنجاب سوشل اکنامک رجسٹری رجسٹریشن کی تفصیلات درکار ہوں گی۔
- آف لائن مدد: اگر درخواست دہندہ کو آن لائن درخواست دینے میں مشکل پیش آئے، تو وہ اپنے قریبی ڈپٹی کمشنر آفس جا کر عملے سے مفت مدد حاصل کر سکتا ہے۔
- ہیلپ لائن: مزید رہنمائی کے لیے شہری 080009100 پر کال کر سکتے ہیں۔
نتیجہ
جولائی 2025 تک، “اپنی چھت اپنا گھر” پروگرام پنجاب حکومت کی جانب سے ایک نمایاں اور ترقی پسند اقدام بن کر ابھرا ہے جس کا مقصد صوبے کے غریب اور بے گھر خاندانوں کو معیاری رہائش فراہم کرنا ہے۔ یہ پروگرام مالی سال 2025-26 کے لیے 42 ارب روپے سے زائد کی گرانٹ اور بینک آف پنجاب کے ساتھ بلاسود قرضوں کے معاہدے جیسے اقدامات کے ساتھ تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔
اس پروگرام کی سب سے بڑی کامیابی اس کا بلاسود مالیاتی ماڈل ہے، جو کم آمدنی والے طبقے پر سے سود کا بوجھ ہٹاتا ہے اور انہیں محض 14,000 روپے کی ماہانہ قسط پر 7 سال میں اپنا گھر حاصل کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ اب تک 51,000 سے زائد خاندان اس سے مستفید ہو چکے ہیں، جن میں ہزاروں گھر مکمل ہو چکے ہیں اور مزید زیر تعمیر ہیں۔
“اپنی چھت اپنا گھر” صرف ایک ہاؤسنگ اسکیم نہیں بلکہ یہ غربت کے خاتمے، معیار زندگی کی بلندی، اور معاشی استحکام کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ یہ پروگرام نہ صرف لاکھوں افراد کو عزت اور وقار کے ساتھ سر چھپانے کی جگہ فراہم کر رہا ہے بلکہ تعمیراتی شعبے کو فروغ دے کر روزگار کے بے شمار مواقع بھی پیدا کر رہا ہے۔ یہ حکومت کے لیے ایک عزم کی علامت ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو بنیادی حقوق کی فراہمی میں سنجیدہ ہے۔